کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں

کیفی اعظمی

کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں

کیفی اعظمی

MORE BY کیفی اعظمی

    کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں

    اس سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیں

    دیوانہ پوچھتا ہے یہ لہروں سے بار بار

    کچھ بستیاں یہاں تھیں بتاؤ کدھر گئیں

    اب جس طرف سے چاہے گزر جائے کارواں

    ویرانیاں تو سب مرے دل میں اتر گئیں

    پیمانہ ٹوٹنے کا کوئی غم نہیں مجھے

    غم ہے تو یہ کہ چاندنی راتیں بکھر گئیں

    پایا بھی ان کو کھو بھی دیا چپ بھی ہو رہے

    اک مختصر سی رات میں صدیاں گزر گئیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    الکا یاگنک

    الکا یاگنک

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY