کیا جانیں تری امت کس حال کو پہنچے گی

ساحر لدھیانوی

کیا جانیں تری امت کس حال کو پہنچے گی

ساحر لدھیانوی

MORE BY ساحر لدھیانوی

    کیا جانیں تری امت کس حال کو پہنچے گی

    بڑھتی چلی جاتی ہے تعداد اماموں کی

    ہر گوشۂ مغرب میں ہر خطۂ مشرق میں

    تشریح دگرگوں ہے اب تیرے پیاموں کی

    وہ لوگ جنہیں کل تک دعویٰ تھا رفاقت کا

    تذلیل پہ اترے ہیں اپنوں ہی کے ناموں کی

    بگڑے ہوئے تیور ہیں نو عمر سیاست کے

    بپھری ہوئی سانسیں ہیں نو مشق نظاموں کی

    طبقوں سے نکل کر ہم فرقوں میں نہ بٹ جائیں

    بن کر نہ بگڑ جائے تقدیر غلاموں کی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کیا جانیں تری امت کس حال کو پہنچے گی نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY