کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے

نظم طبا طبائی

کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے

نظم طبا طبائی

MORE BYنظم طبا طبائی

    کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے

    اپنے دل کو فگار کر بیٹھے

    صبر کی اک قبا جو باقی تھی

    اس کو بھی تار تار کر بیٹھے

    آج پھر ان کی آمد آمد ہے

    ہم خزاں کو بہار کر بیٹھے

    وائے اس بت کا وعدۂ فردا

    عمر بھر انتظار کر بیٹھے

    خود جو غم ہیں تو آئنہ حیراں

    کس غضب کا سنگھار کر بیٹھے

    ہم تہی دست تجھ کو کیا دیتے

    جان تجھ پر نثار کر بیٹھے

    مآخذ:

    • کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 119)
    • مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY