کیا کہوں کتنی اذیت سے نکالی گئی شب

ارشد جمال صارم

کیا کہوں کتنی اذیت سے نکالی گئی شب

ارشد جمال صارم

MORE BY ارشد جمال صارم

    کیا کہوں کتنی اذیت سے نکالی گئی شب

    ہاں یہی شب یہ مری ہجر بنا لی گئی شب

    پہلے ظلمت کا پرستار بنایا گیا میں

    اور پھر میری نگاہوں سے اٹھا لی گئی شب

    رات بھر فتح وہ کرتی رہی اجیاروں کو

    صبح دم اپنے اندھیروں سے بھی خالی گئی شب

    تا سدا مجھ میں رہیں چاند ستارے روشن

    میری مٹی میں طبیعت سے ملا لی گئی شب

    ختم ہوتا ہی نہیں سلسلہ تنہائی کا

    جانے کس درجہ مسافت میں ہے ڈھالی گئی شب

    فصل مقصود تھی صارمؔ ہمیں سورج کی جہاں

    حیف ہے ان ہی زمینوں پہ اگا لی گئی شب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY