کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا

پروین شاکر

کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا

پروین شاکر

MORE BY پروین شاکر

    کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا

    زخم ہی یہ مجھے لگتا نہیں بھرنے والا

    زندگی سے کسی سمجھوتے کے با وصف اب تک

    یاد آتا ہے کوئی مارنے مرنے والا

    اس کو بھی ہم ترے کوچے میں گزار آئے ہیں

    زندگی میں وہ جو لمحہ تھا سنورنے والا

    شام ہونے کو ہے اور آنکھ میں اک خواب نہیں

    کوئی اس گھر میں نہیں روشنی کرنے والا

    دسترس میں ہیں عناصر کے ارادے کس کے

    سو بکھر کے ہی رہا کوئی بکھرنے والا

    اس کا انداز سخن سب سے جدا تھا شاید

    بات لگتی ہوئی لہجہ وہ مکرنے والا

    اسی امید پر ہر شام بجھائے ہیں چراغ

    ایک تازہ ہے سر بام ابھرنے والا

    مآخذ:

    • Book : Urdu Adab (Pg. 41)
    • Author : Iqbal Hussain
    • مطبع : Iqbal Hussain Publishers (Jan, Feb. Mar 1996)
    • اشاعت : Jan, Feb. Mar 1996

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY