کیا کروں رنج گوارا نہ خوشی راس مجھے

شاذ تمکنت

کیا کروں رنج گوارا نہ خوشی راس مجھے

شاذ تمکنت

MORE BYشاذ تمکنت

    کیا کروں رنج گوارا نہ خوشی راس مجھے

    جینے دے گی نہ مری شدت احساس مجھے

    اس طرح بھی تری دوری میں کٹے ہیں کچھ دن

    ہنس پڑا ہوں تو ہوا جرم کا احساس مجھے

    ہم نے اک دوسرے کو پرسۂ فرقت نہ دیا

    میری خاطر تھی تجھے اور ترا پاس مجھے

    ایک ٹھہرا ہوا دریا ہے مری آنکھوں میں

    کن سرابوں میں ڈبوتی ہے تری پیاس مجھے

    جیسے پہلوئے طرب میں کوئی نشتر رکھ دے

    آج تک یاد ہے تیری نگہ یاس مجھے

    ریزہ ریزہ ہوا جاتا ہے مرا سنگ وجود

    یوں صدا دے نہ پس پردۂ انفاس مجھے

    شاخ سے برگ چکیدہ کا تقاضا جیسے

    کچھ اس طرح ابھی تک ہے تری آس مجھے

    روح کے دشت میں اک ہو کا سماں ہے اے شاذؔ

    دے گیا کون بھرے شہر میں بن باس مجھے

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Shaz Tamkanat (Pg. 304)
    • Author : Shaz Tamkanat
    • مطبع : Educational Publishing House (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY