کیا خبر تھی رنجشیں ہی درمیاں رہ جائیں گی

اشوک مزاج بدر

کیا خبر تھی رنجشیں ہی درمیاں رہ جائیں گی

اشوک مزاج بدر

MORE BYاشوک مزاج بدر

    کیا خبر تھی رنجشیں ہی درمیاں رہ جائیں گی

    ہم گلے ملتے رہیں گے دوریاں رہ جائیں گی

    یہ نگر بھی کارخانوں کا نگر ہو جائے گا

    ان درختوں کی جگہ کچھ چمنیاں رہ جائیں گی

    دھیرے دھیرے شور سناٹوں میں گم ہو جائے گا

    اور سڑکوں پر چمکتی بتیاں رہ جائیں گی

    رات جس دم اپنے کمبل میں چھپا لے گی ہمیں

    ہاتھ ملتی اور ٹھٹھرتی سردیاں رہ جائیں گی

    ہم نے سوچا تھا کہ ان کا ہاتھ ہوگا ہاتھ میں

    کیا خبر تھی ہاتھ میں بس چٹھیاں رہ جائیں گی

    یہ تماشہ اور تھوڑی دیر تک ہوگا ابھی

    پھر یہاں بس خالی خالی کرسیاں رہ جائیں گی

    آگ تھوڑی دیر کو بجھ جائے گی لیکن مزاج

    راکھ کے نیچے دبی چنگاریاں رہ جائیں گی

    مأخذ :
    • کتاب : Main Ashok Hoon Main Mizaj Bhee (Pg. 49)
    • Author : Ashok Mizaj Badr
    • مطبع : Shere Acadami, Bhopal (2017)
    • اشاعت : 2017

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے