کیا کسی لمحۂ رفتہ نے ستایا ہے تجھے

سحر انصاری

کیا کسی لمحۂ رفتہ نے ستایا ہے تجھے

سحر انصاری

MORE BYسحر انصاری

    کیا کسی لمحۂ رفتہ نے ستایا ہے تجھے

    ان دنوں میں نے پریشان سا پایا ہے تجھے

    بحر شادابیٔ جذبات کی اے موج رواں

    کون اس دشت بلا خیز میں لایا ہے تجھے

    تیری تنویر سلامت مگر اے مہر مبیں

    گھر کی دیوار پہ یوں کس نے سجایا ہے تجھے

    شکوۂ تلخئ حالات بجا ہے لیکن

    اس پہ روتا ہوں کہ میں نے بھی رلایا ہے تجھے

    گاہ پہنا ہے تجھے خلعت زریں کی طرح

    گاہ پیوند کے مانند چھپایا ہے تجھے

    تو کبھی مجھ سے رہی مثل صبا دامن کش

    اور کبھی اپنے ہی بستر پہ سلایا ہے تجھے

    میری آشفتہ مزاجی میں نہیں کوئی کلام

    روٹھ کے سارے زمانے سے منایا ہے تجھے

    مآخذ :
    • کتاب : namuud (Pg. 62)
    • Author : sahar ansari
    • مطبع : welcome book port urdu bazar karachi (2006)
    • اشاعت : 2006

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY