Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کیا ملا اے زندگی قانون فطرت سے مجھے

سجاد باقر رضوی

کیا ملا اے زندگی قانون فطرت سے مجھے

سجاد باقر رضوی

MORE BYسجاد باقر رضوی

    کیا ملا اے زندگی قانون فطرت سے مجھے

    کچھ ملا حق بھی تو باطل کی وساطت سے مجھے

    میرے مالک میں تکبر سے نہیں ہوں سر بلند

    سر جھکا اتنا ہوئی نفرت اطاعت سے مجھے

    میں وہ عاشق ہوں کہ خود ہی چومتا ہوں اپنے ہاتھ

    کب بھلا فرصت ملی اپنی رقابت سے مجھے

    میں وہ ٹوٹا آئنہ ہوں آپ اپنے سامنے

    جس میں ہول آتا ہے خود اپنی ہی صورت سے مجھے

    میں وہ پتھر ہوں کہ جس میں دودھ کی نہریں بھی ہیں

    تیشۂ فرہاد مت ٹھکرا حقارت سے مجھے

    میں وہ عالم ہوں کہ ہر عالم ہے مجھ میں ہمکنار

    تو ذرا پہچان خود اپنی شباہت سے مجھے

    خار زار دشت میں ہوں اور تو سرو چمن

    تو بھلا کیوں ناپتا ہے اپنے قامت سے مجھے

    حیف کس کے آگے لفظوں کے دیئے روشن کیے

    کتنی امیدیں ہیں اندھوں کی بصارت سے مجھے

    میں کہاں بیٹھوں کہ سائے بھی گریزاں مجھ سے ہیں

    اب تو دیواریں بھی تکتی ہیں حقارت سے مجھے

    میں گریباں چاک تاریکی میں کب تک منہ چھپاؤں

    اب تو شرم آنے لگی اپنی ندامت سے مجھے

    آتی ہیں وحشت سرائے دل سے آوازیں عجب

    دیکھتے ہیں اب تو ویرانے بھی حیرت سے مجھے

    اب اگر کچھ بھی نہیں ہوتا تو شور حشر ہو

    کم نہیں ہے اتنا سناٹا قیامت سے مجھے

    کون ناصر میرا باقرؔ کس کو میرا انتظار

    کوئے‌ گم نامی میں ہوں کیا کام شہرت سے مجھے

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے