کیا سوچتے ہو اب پھولوں کی رت بیت گئی رت بیت گئی

مجید امجد

کیا سوچتے ہو اب پھولوں کی رت بیت گئی رت بیت گئی

مجید امجد

MORE BY مجید امجد

    کیا سوچتے ہو اب پھولوں کی رت بیت گئی رت بیت گئی

    وہ رات گئی وہ بات گئی وہ ریت گئی رت بیت گئی

    اک لہر اٹھی اور ڈوب گئے ہونٹوں کے کنول آنکھوں کے دیے

    اک گونجتی آندھی وقت کی بازی جیت گئی رت بیت گئی

    تم آ گئے میری باہوں میں کونین کی پینگیں جھول گئیں

    تم بھول گئے، جینے کی جگت سے ریت گئی رت بیت گئی

    پھر تیر کے میرے اشکوں میں گل پوش زمانے لوٹ چلے

    پھر چھیڑ کے دل میں ٹیسوں کے سنگیت گئی رت بیت گئی

    اک دھیان کے پاؤں ڈول گئے اک سوچ نے بڑھ کر تھام لیا

    اک آس ہنسی اک یاد سنا کر گیت گئی رت بیت گئی

    یہ لالہ و گل کیا پوچھتے ہو سب لطف نظر کا قصہ ہے

    رت بیت گئی جب دل سے کسی کی پیت گئی رت بیت گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY