کیا ضروری ہے کہ تکرار ہو آؤ بولو
کیا ضروری ہے کہ تکرار ہو آؤ بولو
جانتا ہوں پس دیوار ہو آؤ بولو
میں نے تو کر دیا اظہار مگر چاہتا ہوں
عشق میں تم بھی گرفتار ہو آؤ بولو
حسرت دید کا اعلان کئے پھرتا ہوں
تم بھی گر طالب دیدار ہو آؤ بولو
ہم تو رکھتے ہیں علاج دل افسردہ بھی
تم بھی کیا عشق کے بیمار ہو آؤ بولو
مرحلے عشق کے تکلیف بہت دیتے ہیں
تم بھی کیا عاشق آزار ہو آؤ بولو
سنتا رہتا ہوں میں فریاد محبت سب کی
تم بھی گر میرے طلب گار ہو آؤ بولو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.