کیوں کہوں کوئی قد آور نہیں آیا اب تک

عاجز ماتوی

کیوں کہوں کوئی قد آور نہیں آیا اب تک

عاجز ماتوی

MORE BYعاجز ماتوی

    کیوں کہوں کوئی قد آور نہیں آیا اب تک

    ہاں مرے قد کے برابر نہیں آیا اب تک

    ایک مدت سے ہوں میں سینہ سپر میداں میں

    حملہ آور کوئی بڑھ کر نہیں آیا اب تک

    یہ تو دریا ہیں جو آپے سے گزر جاتے ہیں

    جوش میں ورنہ سمندر نہیں آیا اب تک

    ہوں گے منزل سے ہم آغوش یہ امید بندھی

    راستے میں کوئی پتھر نہیں آیا اب تک

    کیا زمانے میں کوئی گوش بر آواز نہیں

    کوئی بھی دل کی صدا پر نہیں آیا اب تک

    جانے کیا بات ہے ساقی کہ تری محفل میں

    جو گیا بڑھ وہ پلٹ کر نہیں آیا اب تک

    انتہا یہ ہے کہ پتھرا گئیں آنکھیں اپنی

    سامنے وہ پری پیکر نہیں آیا اب تک

    کیا کرشمہ ہے در اشک محبت اپنا

    صدف چشم سے باہر نہیں آیا اب تک

    منتظر ہوں میں کفن باندھ کے سر سے عاجزؔ

    سامنے سے کوئی خنجر نہیں آیا اب تک

    مآخذ :
    • کتاب : mahbas-e-gham (Pg. 107)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY