کیوں کیا کرتے ہیں آہیں کوئی ہم سے پوچھے

مبارک عظیم آبادی

کیوں کیا کرتے ہیں آہیں کوئی ہم سے پوچھے

مبارک عظیم آبادی

MORE BYمبارک عظیم آبادی

    کیوں کیا کرتے ہیں آہیں کوئی ہم سے پوچھے

    کر گئیں کیا وہ نگاہیں کوئی ہم سے پوچھے

    لے کے دل ان کے مکرنے کی ادا کیا کہیے

    کیوں پلٹتی ہیں نگاہیں کوئی ہم سے پوچھے

    دوست دشمن کو بنانا کوئی تم سے سیکھے

    دوستی کیسی نباہیں کوئی ہم سے پوچھے

    نیچی نظریں کیے آتے ہو جہاں سے سمجھے

    جھینپتی کیوں ہیں نگاہیں کوئی ہم سے پوچھے

    دل میں آنے کے مبارکؔ ہیں ہزاروں رستے

    ہم بتائیں اسے راہیں کوئی ہم سے پوچھے

    مأخذ :
    • کتاب : intekhaab-e-kalaam (Pg. 46)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے