کیوں میں حائل ہو جاتا ہوں اپنی ہی تنہائی میں

ظفر حمیدی

کیوں میں حائل ہو جاتا ہوں اپنی ہی تنہائی میں

ظفر حمیدی

MORE BYظفر حمیدی

    کیوں میں حائل ہو جاتا ہوں اپنی ہی تنہائی میں

    ورنہ اک پر لطف سماں ہے خود اپنی گہرائی میں

    فطرت نے عطا کی ہے بے شک مجھ کو بھی کچھ عقل سلیم

    کون خلل انداز ہوا ہے میری ہر دانائی میں

    جھوٹ کی نمکینی سے باتوں میں آ جاتا ہے مزا

    کوئی نہیں لیتا دلچسپی پھیکی سی سچائی میں

    اپنے تھے بیگانے تھے اور آخر میں خود میری ذات

    کس کس کا اکرام ہوا ہے کتنا مری رسوائی میں

    بدلے بدلے لگتے ہو ہے چہرے پر انجانا پن

    یا وقت کے ہاتھوں فرق آیا میری ہی بینائی میں

    سننے والوں کے چہروں پر سرخ لکیروں کے ہیں نشاں

    خونی سوچوں کی آمیزش ہے نغموں کی شہنائی میں

    سب قدریں پامال ہوئیں انساں نے خود کو مسخ کیا

    قدرت نے کتنی محنت کی تھی اپنی بزم آرائی میں

    اپنی آگاہی کی ان کو ہوتی نہیں توفیق کبھی

    لوگ خدا کو ڈھونڈ رہے ہیں آفاقی پہنائی میں

    دنیا کی دانش گاہوں میں آج عجب اک بحث چھڑی

    کون بھروسے کے قابل ہے عاقل اور سودائی میں

    جانے کس کردار کی کائی میرے گھر میں آ پہنچی

    اب تو ظفرؔ چلنا ہے مشکل آنگن کی چکنائی میں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کیوں میں حائل ہو جاتا ہوں اپنی ہی تنہائی میں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY