کیوں نہ ہوں حیراں تری ہر بات کا

جرأت قلندر بخش

کیوں نہ ہوں حیراں تری ہر بات کا

جرأت قلندر بخش

MORE BY جرأت قلندر بخش

    کیوں نہ ہوں حیراں تری ہر بات کا

    حسن مرقع ہے طلسمات کا

    روؤں تو خوش ہو کے پیے ہے وہ مے

    سمجھے ہے موسم اسے برسات کا

    اٹھتی جوانی جو ہے تو دن بہ دن

    اور ہی عالم ہے کچھ اس گات کا

    گھر میں بلایا ہے تو کچھ منہ سے دو

    سیکھو یہ ڈھب ہم سے مدارات کا

    شیخ جواں ہوگا تو پی دیکھ اسے

    شیشے میں پانی ہے کرامات کا

    ہم نہ ملیں تم سے تو نکلے ہے جاں

    اور تمہیں عالم ہے مساوات کا

    اس نے کی اب کم سخنی اختیار

    جس کو مزہ تھا مری ہر بات کا

    آنکھ بھی ملتی ہے تو نا آشنا

    اب وہ کہاں لطف اشارات کا

    رونے کی جا ہے سن اسے ہم نشیں

    تو تو ہے محرم مرے اوقات کا

    حکم ہوا رات کو آؤ نہ یاں

    دن کو رکھو طور ملاقات کا

    دل کے اٹکتے ہی ہوا ہے ستم

    فرق ملاقات میں دن رات کا

    بات نئی سوجھے ہے جرأتؔ تجھے

    میں تو ہوں عاشق تری اس بات کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY