کیوں کر شکار‌ حسن نہ کھیلیں یہاں کے لوگ

منیرؔ  شکوہ آبادی

کیوں کر شکار‌ حسن نہ کھیلیں یہاں کے لوگ

منیرؔ  شکوہ آبادی

MORE BYمنیرؔ  شکوہ آبادی

    کیوں کر شکار‌ حسن نہ کھیلیں یہاں کے لوگ

    پریوں کو پھانس لیتے ہیں ہندوستاں کے لوگ

    آپس میں ایک دوسرے سے آشنا نہیں

    زیر زمیں بھرے ہیں الٰہی کہاں کے لوگ

    باغ جہاں سے جاتے نہیں جانب بہشت

    ناحق طمانچے کھاتے ہیں باد خزاں کے لوگ

    شہر وفا کا سجدۂ شکرانہ ہے یہی

    پتھر سے سر پٹکتے ہیں شہر بتاں کے لوگ

    زنار سے ہے کم رگ جاں جس کے سامنے

    بندہ ہوئے ہیں اس بت‌ نا مہرباں کے لوگ

    اپنی خبر لے اوروں سے کیا کام اے منیرؔ

    کس کا زمانہ کون سی بستی کہاں کے لوگ

    مآخذ:

    • کتاب : Ghazal Usne Chhedi(3) (Pg. 141)
    • Author : Farhat Ehsas
    • مطبع : Rekhta Books (2017)
    • اشاعت : 2017

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY