لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں

اختر شیرانی

لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں

اختر شیرانی

MORE BYاختر شیرانی

    لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں

    زندگانی پھر کہاں ناداں جوانی پھر کہاں

    دو گھڑی مل بیٹھنے کو بھی غنیمت جانئے

    عمر فانی ہی سہی یہ عمر فانی پھر کہاں

    آ کہ ہم بھی اک ترانہ جھوم کر گاتے چلیں

    اس چمن کے طائروں کی ہم زبانی پھر کہاں

    ہے زمانہ عشق سلمیٰ میں گنوا دے زندگی

    یہ زمانہ پھر کہاں یہ زندگانی پھر کہاں

    ایک ہی بستی میں ہیں آساں ہے ملنا آ ملو

    کیا خبر لے جائے دور آسمانی پھر کہاں

    فصل گل جانے کو ہے دور خزاں آنے کو ہے

    یہ چمن یہ بلبلیں یہ نغمہ خوانی پھر کہاں

    پھول چن جی کھول کر عیش و طرب کے پھول چن

    موسم گل پھر کہاں فصل جوانی پھر کہاں

    آخری رات آ گئی جی بھر کے مل لیں آج تو

    تم سے ملنے دے گا دور آسمانی پھر کہاں

    آج آئے ہو تو سنتے جاؤ یہ تازہ غزل

    ورنہ اخترؔ پھر کہاں یہ شعر خوانی پھر کہاں

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Akhtar shirani (Pg. 244)
    • Author : Gopal Mittal
    • مطبع : Modern Publishing House (1997)
    • اشاعت : 1997

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY