لب جو دیکھے تشنگی تڑپا گئی

علی رضا رضی

لب جو دیکھے تشنگی تڑپا گئی

علی رضا رضی

MORE BYعلی رضا رضی

    لب جو دیکھے تشنگی تڑپا گئی

    پھر نگاہ ناز ہم کو کھا گئی

    ہم ابھی آنکھوں سے لب تک آئے تھے

    بات اتنی تھی کہ وہ شرما گئی

    تھا اگر پتھر کا میرا دل تو پھر

    تیری قربت کیوں اسے پگھلا گئی

    اس نے آنکھوں سے دھماکہ کر دیا

    دل پہ دہشت گرد لڑکی چھا گئی

    تھا ابھی پہلی محبت کا خمار

    ایک پھر جام شہادت پا گئی

    دل کو نہ سر پر چڑھاؤں گا میں اب

    یہ محبت اب سمجھ میں آ گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY