لبوں کے سامنے خالی گلاس رکھتے ہیں

فراغ روہوی

لبوں کے سامنے خالی گلاس رکھتے ہیں

فراغ روہوی

MORE BYفراغ روہوی

    لبوں کے سامنے خالی گلاس رکھتے ہیں

    سمندروں سے کہو ہم بھی پیاس رکھتے ہیں

    ہر ایک گام پہ روشن ہوا خدا کا گماں

    اسی گماں پہ یقیں کی اساس رکھتے ہیں

    ہم اپنے آپ سے پاتے ہیں کوسوں دور اسے

    وہی خدا کہ جسے آس پاس رکھتے ہیں

    چڑھا کے دار قناعت پہ ہر تمنا کو

    جو ایک دل ہے اسے بھی اداس رکھتے ہیں

    زیاں پسند ہمارا مزاج ہے ورنہ

    نگاہ ہم بھی زمانہ شناس رکھتے ہیں

    ہمارے تن پہ کوئی قیمتی قبا نہ سہی

    غزل کو اپنی مگر خوش لباس رکھتے ہیں

    چلو کہ راہ تمنا میں چل کے ہم بھی فراغؔ

    زمین دل پہ غموں کی اساس رکھتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Ke Rang (Pg. 254)
    • Author : Akram Naqqash, Sohil Akhtar
    • مطبع : Aflaak Publications, Gulbarga (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے