لبوں کو کھول تو کیسا بھی ہو جواب تو دے

قیصر خالد

لبوں کو کھول تو کیسا بھی ہو جواب تو دے

قیصر خالد

MORE BYقیصر خالد

    لبوں کو کھول تو کیسا بھی ہو جواب تو دے

    نہ بانٹ سود و زیاں کو مگر حساب تو دے

    وفا، خلوص و محبت کو پھر سمجھنا ہے

    کہاں لکھے ہیں یہ الفاظ تو کتاب تو دے

    اب اس طرح بھی روایت سے انحراف نہ کر

    بدل اگرچہ تو اچھا نہ دے، خراب تو دے

    یہ کیا کہ اپنی ہی رفتار پر ہے وہ نازاں

    کسی کے رینگتے قدموں کو آب و تاب تو دے

    چھلک رہا ہے زمانے کے صبر کا پیالہ

    ہمارے عہد کے فرعون کو عذاب تو دے

    تپش نے وقت کی جھلسا کے ان کو رکھا ہے

    خزاں نصیبوں کو تھوڑا سہی شباب تو دے

    ہے اختیار میں جتنا ترے تو اتنا تو کر

    نہ مل سکے کوئی تعبیر، ان کو خواب تو دے

    میں تیری تنگ نگاہی کی کیا کروں تاویل

    سلگتی آنکھوں کو پانی نہ دے سراب تو دے

    یوں نسل نو کی ذہانت کو ممتحن نہ پرکھ

    جسے پڑھے یہ نئی نسل وہ کتاب تو دے

    کسی کو کیا ہے غرض جو پڑھے تری روداد

    کرے اپیل کسی کو وہ ایک باب تو دے

    تڑپ رہی ہے زمیں کب سے منصفی کے لئے

    نبی نہیں تو زمانے کو بوترابؔ تو دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے