لڑکھڑاتے ہوئے بھی اور سنبھلتے ہوئے بھی

پیرزادہ قاسم

لڑکھڑاتے ہوئے بھی اور سنبھلتے ہوئے بھی

پیرزادہ قاسم

MORE BYپیرزادہ قاسم

    لڑکھڑاتے ہوئے بھی اور سنبھلتے ہوئے بھی

    اس کے در پر ہی گئے خواب میں چلتے ہوئے بھی

    عشق آثار تھی ہر راہ گزر اس کی تھی

    ہم بھٹک سکتے نہ تھے راہ بدلتے ہوئے بھی

    عشق ہے عشق بہ ہر حال نمو پائے گا

    یعنی جلتے ہوئے بھی اور پگھلتے ہوئے بھی

    زندگی تیرے فقط ایک تبسم کے لیے

    ہم کہ ہنستے ہی رہے درد میں ڈھلتے ہوئے بھی

    ایک مدت سے ہیں ہم عشق میں آوارہ بکار

    یعنی اک عمر ہوئی پھولتے پھلتے ہوئے بھی

    سلسلہ تجھ سے ہی تھا تیرے طلب گاروں کا

    برف ہوتے ہوئے بھی آگ میں جلتے ہوئے بھی

    بن ترے ایسا اندھیرا تھا مرے اندر یار

    ڈر لگا عشق کے سورج کو نکلتے ہوئے بھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY