لفظ ہو پائی نہیں پھر بھی معانی میں ہوں میں

رشمی صبا

لفظ ہو پائی نہیں پھر بھی معانی میں ہوں میں

رشمی صبا

MORE BY رشمی صبا

    لفظ ہو پائی نہیں پھر بھی معانی میں ہوں میں

    یعنی کردار نہیں اور کہانی میں ہوں میں

    میری پہچان حوالوں ہی سے دی جاتی ہے

    سیدھا اک نام نہیں ہوتا ہے یعنی میں ہوں میں

    موج دریا کی تمہیں ساتھ لئے چلتی ہے

    اور ادھر جھیل کے ٹھہرے ہوئے پانی میں ہوں میں

    منزلیں گم ہیں قدم ٹھہرے ہوئے ہیں پھر بھی

    زندگی کو یہ گماں ہے کی روانی میں ہوں میں

    وہ ہے جنگل تو مجھے ڈھونڈھو پرندوں میں صباؔ

    وہ ہے دریا تو سمجھ جاؤ کہ پانی میں ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY