لگتا ہے پیچ و تاب کے آگے کچھ اور ہے

خورشید طلب

لگتا ہے پیچ و تاب کے آگے کچھ اور ہے

خورشید طلب

MORE BYخورشید طلب

    لگتا ہے پیچ و تاب کے آگے کچھ اور ہے

    اس شور انقلاب کے آگے کچھ اور ہے

    بے شک مرے سوال کے پیچھے ہے اور بات

    کیا تیرے اس جواب کے آگے کچھ اور ہے

    ہر چند میری آنکھوں نے دیکھا نہیں ہنوز

    لیکن طلسم خواب کے آگے کچھ اور ہے

    جو تجھ سے خوش جمال ہے اور دل فریب بھی

    دنیا ترے شباب کے آگے کچھ اور ہے

    اڑتا ہوا عقاب تو آنکھوں میں قید ہے

    اب دیکھیے عقاب کے آگے کچھ اور ہے

    ہاں جس سے اس زمیں کا توازن ہے برقرار

    دن رات کے عذاب کے آگے کچھ اور ہے

    پردہ پڑا ہوا ہے مری آنکھ پر طلب

    یا برق و آفتاب کے آگے کچھ اور ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY