لگتے ہیں نت جو خوباں شرمانے باؤلے ہیں

مصحفی غلام ہمدانی

لگتے ہیں نت جو خوباں شرمانے باؤلے ہیں

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    لگتے ہیں نت جو خوباں شرمانے باؤلے ہیں

    ہم لوگ وحشی خبطی دیوانے باؤلے ہیں

    یہ سحر کیا کیا ہے بالوں کی درہمی نے

    جو اس پری پر اپنے بیگانے باؤلے ہیں

    جی جھونکتا ہے کوئی آتش میں ناحق اپنا

    جلتے ہیں شمع پر جو پروانے باؤلے ہیں

    عصمت کا اپنی اس کو جب آپھی غم نہ ہووے

    لگتے ہیں ہم جو ناحق غم کھانے باؤلے ہیں

    اس مے کا ایک قطرہ سوراخ دل کرے ہے

    بھر بھر جو ہم پئیں ہیں پیمانے باؤلے ہیں

    گردش سے پتلیوں کی سرگشتہ ہے زمانہ

    مستی سے اس نگہ کی مے خانے باؤلے ہیں

    جاتے ہیں اس گلی میں لڑکوں کو ساتھ لے کر

    میاں مصحفیؔ بھی یارو کیا سیانے باؤلے ہیں

    مآخذ
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii (Pg. 170)

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY