لہجے کا رس ہنسی کی دھنک چھوڑ کر گیا

انجم عرفانی

لہجے کا رس ہنسی کی دھنک چھوڑ کر گیا

انجم عرفانی

MORE BYانجم عرفانی

    لہجے کا رس ہنسی کی دھنک چھوڑ کر گیا

    وہ جاتے جاتے دل میں کسک چھوڑ کر گیا

    موج ہوائے گل سا وہ گزرا تھا ایک بار

    پھر بھی مشام جاں میں مہک چھوڑ کر گیا

    آیا تھا پچھلی رات دبے پاؤں میرے گھر

    پازیب کی رگوں میں جھنک چھوڑ کر گیا

    لرزہ گرفت لمس کی لذت سے بار بار

    بانہوں میں شاخ گل کی لچک چھوڑ کر گیا

    آیا تھا شہر گل سے بلاوا مرے لیے

    زنداں میں بیڑیوں کی چھنک چھوڑ کر گیا

    تھا دیکھنا کچھ اپنا طلسم ہنر اسے

    باغ بہشت و حور و ملک چھوڑ کر گیا

    آوارہ کو بہ کو یہ اسے ڈھونڈھتی پھرے

    پائے ہوا میں کیسی سنک چھوڑ کر گیا

    ہنستے تھے زخم اور بھی کھا کھا کے ضرب سنگ

    راہوں میں پھول دور تلک چھوڑ کر گیا

    ہاتھوں میں دے کے کھینچ لیں ریشم کلائیاں

    کمرے میں چوڑیوں کی کھنک چھوڑ کر گیا

    آنکھیں نہ اس کی بار ندامت سے اٹھ سکیں

    زخموں پہ میرے اور نمک چھوڑ کر گیا

    پلکوں پہ جگنوؤں کا بسیرا ہے وقت شام

    انجمؔ میں پانیوں میں چمک چھوڑ کر گیا

    مأخذ :
    • کتاب : libaas-e-zakhm (Pg. 66)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY