لہو ہی کتنا ہے جو چشم تر سے نکلے گا

فضا ابن فیضی

لہو ہی کتنا ہے جو چشم تر سے نکلے گا

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    لہو ہی کتنا ہے جو چشم تر سے نکلے گا

    یہاں بھی کام نہ عرض ہنر سے نکلے گا

    ہر ایک شخص ہے بے سمتیوں کی دھند میں گم

    بتائے کون کہ سورج کدھر سے نکلے گا

    کرو جو کر سکو بکھرے ہوئے وجود کو جمع

    کہ کچھ نہ کچھ تو غبار سفر سے نکلے گا

    میں اپنے آپ سے مل کر ہوا بہت مایوس

    خبر تھی گرم کہ وہ آج گھر سے نکلے گا

    ہیں برف برف ابھی میرے عہد کی راتیں

    افق جلیں گے تو شعلہ سحر سے نکلے گا

    یہ کیا خبر تھی کہ اے رنج رائگاں نفسی

    دھواں بھی سینۂ اہل نظر سے نکلے گا

    مری زمیں نے خلا میں بھی کھینچ دی دیوار

    تو آسماں سہی کس رہ گزر سے نکلے گا

    تمام لوگ اسی حسرت میں دھوپ دھوپ جلے

    کبھی تو سایہ گھنیرے شجر سے نکلے گا

    سمو نہ تاروں میں مجھ کو کہ ہوں وہ سیل نوا

    جو زندگی کے لب معتبر سے نکلے گا

    پھرا ہوں کاسہ لیے لفظ لفظ کے پیچھے

    تمام عمر یہ سودا نہ سر سے نکلے گا

    فضاؔ متاع قلم کو سنبھال کر رکھو

    کہ آفتاب اسی درج گہر سے نکلے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY