لہو میں کیا بتائیں روشنی کیسی ملی تھی

محمد اظہار الحق

لہو میں کیا بتائیں روشنی کیسی ملی تھی

محمد اظہار الحق

MORE BYمحمد اظہار الحق

    لہو میں کیا بتائیں روشنی کیسی ملی تھی

    ملی تھی بس محبت جس طرح کی بھی ملی تھی

    بہت سی جمع کر رکھی تھیں اس نے کہکشائیں

    میں رویا تو مجھے اک قاش سورج کی ملی تھی

    اٹھاتے کس طرح پلکوں کی لمبائی کا جھگڑا

    بہت مشکل سے آنکھیں اور بینائی ملی تھی

    حیا تھی آنکھ میں گندم کے خوشے ہاتھ میں تھے

    عجب حالت میں تھی جب مجھ کو عریانی ملی تھی

    یہیں تھی جو نظر آئی تھی مشعل تھی کہ آتش

    نبوت تھی کہ چنگاری زمیں پر ہی ملی تھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY