لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میں

امام بخش ناسخ

لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میں

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میں

    نام لے لے کر ترا راتوں کو چلاتا ہوں میں

    غیر جب کہتا ہے اس پر میں بھی مرتا ہوں تب آہ

    وہ تو کیا مرتا ہے بس غیرت سے مر جاتا ہوں میں

    آ نکلتا ہے کبھی پر بات وہ کرتا نہیں

    بولتا ہے تو یہ کہتا ہے کہ اب جاتا ہوں میں

    تو وہ ہے آتش کا پرکالہ کہ تیرے سامنے

    آفتاب آ کر کہے جاڑے سے تھراتا ہوں میں

    ناتوانی نے نکل جانے کا ڈر تو کھو دیا

    یار کو اب اپنے مر جانے سے دھمکاتا ہوں میں

    گر چلیں راہ طلب میں توڑ ڈالوں اپنے پاؤں

    بس کبھی ساقی کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہوں میں

    ابر کو دیکھا جو ساقی نے نگاہ مست سے

    رعد بولا اب مئے گل رنگ برساتا ہوں میں

    دوڑتے ہیں پاؤں جب دامان صحرا کی طرف

    ہاتھ بھی سوئے گریباں ساتھ دوڑاتا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY