لکھ کر ورق دل سے مٹانے نہیں ہوتے

مخمور سعیدی

لکھ کر ورق دل سے مٹانے نہیں ہوتے

مخمور سعیدی

MORE BYمخمور سعیدی

    لکھ کر ورق دل سے مٹانے نہیں ہوتے

    کچھ لفظ ہیں ایسے جو پرانے نہیں ہوتے

    جب چاہے کوئی پھونک دے خوابوں کے نشیمن

    آنکھوں کے اجڑنے کے زمانے نہیں ہوتے

    جو زخم عزیزوں نے محبت سے دئیے ہوں

    وہ زخم زمانے کو دکھانے نہیں ہوتے

    ہو جائے جہاں شام وہیں ان کا بسیرا

    آوارہ پرندوں کے ٹھکانے نہیں ہوتے

    بے وجہ تعلق کوئی بے نام رفاقت

    جینے کے لیے کم یہ بہانے نہیں ہوتے

    کہنے کو تو اس شہر میں کچھ بھی نہیں بدلا

    موسم مگر اب اتنے سہانے نہیں ہوتے

    سینے میں کسک بن کے بسے رہتے ہیں برسوں

    لمحے جو پلٹ کر کبھی آنے نہیں ہوتے

    آشفتہ سری میں ہنر حرف و نوا کیا

    لفظوں میں بیاں غم کے فسانے نہیں ہوتے

    مخمورؔ یہ اب کیا ہے کہ بار غم دل سے

    بوجھل مرے احساس کے شانے نہیں ہوتے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    لکھ کر ورق دل سے مٹانے نہیں ہوتے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY