لوگ کہتے ہیں کہ قاتل کو مسیحا کہئے

فیض الحسن خیال

لوگ کہتے ہیں کہ قاتل کو مسیحا کہئے

فیض الحسن خیال

MORE BY فیض الحسن خیال

    لوگ کہتے ہیں کہ قاتل کو مسیحا کہئے

    کیسے ممکن ہے اندھیروں کو اجالا کہئے

    چہرے پڑھنا تو سبھی سیکھ گئے ہیں لیکن

    کیسی تہذیب ہے اپنوں کو پرایا کہئے

    جانے پہچانے ہوئے چہرے نظر آتے ہیں

    وقت قاتل ہے یہاں کس کو مسیحا کہئے

    آپ جس پیڑ کے سائے میں کھڑے ہیں اس کو

    صحن گلشن نہیں جلتا ہوا صحرا کہئے

    سب کے چہروں پہ ہیں اخلاق‌ و مروت کے نقاب

    کس کو اپنا یہاں اور کس کو پرایا کہئے

    شب کے ماتھے پہ کوئی سایہ نمودار ہوا

    اس کو اب پیار کے آنگن کا سویرا کہئے

    زہر تنہائی غم پی کے محبت میں خیالؔ

    کس طرح موت کو جینے کا سہارا کہئے

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites