لوگ تنہائی کا کس درجہ گلا کرتے ہیں

آل احمد سرور

لوگ تنہائی کا کس درجہ گلا کرتے ہیں

آل احمد سرور

MORE BY آل احمد سرور

    لوگ تنہائی کا کس درجہ گلا کرتے ہیں

    اور فن کار تو تنہا ہی رہا کرتے ہیں

    وہ تبسم ہے کہ غالبؔ کی طرح دار غزل

    دیر تک اس کی بلاغت کو پڑھا کرتے ہیں

    کوئی جادو کوئی جلوہ کوئی مستی کوئی موج

    ہم انہیں چند سہاروں پہ جیا کرتے ہیں

    دن پہ یاروں کو اندھیرے کا گماں ہوتا ہے

    ہم اندھیرے میں کرن ڈھونڈھ لیا کرتے ہیں

    بستیاں کچھ ہوئیں ویران تو ماتم کیسا

    کچھ خرابے بھی تو آباد ہوا کرتے ہیں

    سننے والوں کی ہے توفیق سنیں یا نہ سنیں

    بات کہنے کی جو ہے ہم تو کہا کرتے ہیں

    ساحل و بحر کے آئین سلامت نہ رہے

    اب تو ساحل سے بھی طوفان اٹھا کرتے ہیں

    لوگ باتوں میں بہا دیتے ہیں اس دور کا درد

    اور اشعار میں ہم ڈھال لیا کرتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY