لوگ اٹھ جائیں گے ان کے تذکرے رہ جائیں گے

آفتاب احمد شاہ

لوگ اٹھ جائیں گے ان کے تذکرے رہ جائیں گے

آفتاب احمد شاہ

MORE BYآفتاب احمد شاہ

    لوگ اٹھ جائیں گے ان کے تذکرے رہ جائیں گے

    اب یہاں انسانیت کے مقبرے رہ جائیں گے

    ہونٹ سی دے گا تو ہاتھوں کو زباں مل جائے گی

    ضابطے تیرے سبھی کے سب دھرے رہ جائیں گے

    گر تری مردم شناسی کی یہی حالت رہی

    تیرے چاروں اور سارے مسخرے رہ جائیں گے

    شہر والوں کو امیر شہر جل دے جائے گا

    دل میں نفرت آنکھ میں آنسو بھرے رہ جائیں گے

    ظلم کی تحریر بالآخر مٹا دی جائے گی

    حرف اڑ جائیں گے خالی ماترے رہ جائیں گے

    موت کا پھندا تو ہے سب کے گلے میں آفتابؔ

    ہم چلے جائیں گے تو کیا دوسرے رہ جائیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے