لٹ گئے اہل غم جل گئے آشیاں برق کا تلملانا غضب ہو گیا

شوق اثر رامپوری

لٹ گئے اہل غم جل گئے آشیاں برق کا تلملانا غضب ہو گیا

شوق اثر رامپوری

MORE BYشوق اثر رامپوری

    لٹ گئے اہل غم جل گئے آشیاں برق کا تلملانا غضب ہو گیا

    جن کے آنے کی مانگی تھی برسوں دعا ان بہاروں کا آنا غضب ہو گیا

    فکر ہستی گئی فکر دنیا گئی آسماں کے گلے غم کی بپتا گئی

    ہو گئے گل سبھی جگمگاتے دیے شمع الفت جلانا غضب ہو گیا

    آنکھ پر آب مغموم ہے زندگی دل ہے بیتاب آنکھوں سے نیند اڑ گئی

    ان کی محفل میں جانا تو مشکل نہ تھا ان کی محفل سے آنا غضب ہو گیا

    سامنے سے مرے جب بھی جاتے ہیں وہ رخ بچاتے ہیں نظریں چراتے ہیں وہ

    پیار ان سے جتانا ستم ہو گیا راز دل کا بتانا غضب ہو گیا

    چاند شرما گیا پھول قرباں ہوئے حسن کون و مکاں آ گیا وجد میں

    شوقؔ کو دیکھ کر بزم میں آپ کا زیر لب مسکرانا غضب ہو گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY