لطف دنیا تو فقط دیدۂ نمناک میں ہے

خالد ملک ساحل

لطف دنیا تو فقط دیدۂ نمناک میں ہے

خالد ملک ساحل

MORE BYخالد ملک ساحل

    لطف دنیا تو فقط دیدۂ نمناک میں ہے

    شیخ صاحب کی نظر آج بھی افلاک میں ہے

    جس نے تعمیر کیا مجھ کو لہو ہاتھوں سے

    خاک ہو جاؤں کہ وہ شخص بھی اب خاک میں ہے

    مجھ کو مجبور کیا ہے مری مجبوری نے

    آج بھی میری انا کاغذی پوشاک میں ہے

    میں جو بیمار ہوا اس نے عیادت کی ہے

    خوئے رحمت بھی اسی قاتل سفاک میں ہے

    اے دل ہجر زدہ مجھ کو نہ رسوا کرنا

    شرم تھوڑی سی ابھی لہجۂ بے باک میں ہے

    میری رسوائی میں شامل نہیں میرے چہرے

    حاکم شہر مگر آج بھی اس تاک میں ہے

    شہر بے مہر میں زندہ تھا فقط میں ساحلؔ

    میرے احساس کا قاتل مری پوشاک میں ہے

    مأخذ :
    • کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 555)
    • مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY