Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیں

وحشت کلکتوی

لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیں

وحشت کلکتوی

MORE BYوحشت کلکتوی

    لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیں

    میں نے بھی زخم دل کے ان کو دکھا دئیے ہیں

    کچھ حرف آرزو تھا کچھ یاد عیش رفتہ

    جتنے تھے نقش دل میں ہم نے مٹا دیئے ہیں

    فرط غم و الم سے جب دل ہوا ہے گریاں

    اس نے عنایتوں کے دریا بہا دیئے ہیں

    دیکھے ہیں تیرے تیور دھوکا نہ کھائیں گے اب

    اٹھتے تھے ولولے کچھ ہم نے دبا دیئے ہیں

    اس دل نشیں ادا کا مطلب کبھی نہ سمجھے

    جب ہم نے کچھ کہا ہے وہ مسکرا دیئے ہیں

    شوخ کر دیا ہے چھڑیوں سے ہم نے تم کو

    کچھ حوصلے ہمارے تم نے بڑھا دیئے ہیں

    کوئی تجھ کو دیکھے پردہ اٹھانے والے

    تو نے تجلیوں کے پردے گرا دیئے ہیں

    کرتا ہوں وحشتؔ ان سے عرض نیاز پنہاں

    اس کام کے طریقے دل نے بتا دیئے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے