لطف کیا ہے بے خودی کا جب مزا جاتا رہا

شاد عظیم آبادی

لطف کیا ہے بے خودی کا جب مزا جاتا رہا

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    لطف کیا ہے بے خودی کا جب مزا جاتا رہا

    یوں نہ مانوں میں مگر ساغر تو سمجھاتا رہا

    طاق سے مینا اتارا پاؤں میں لغزش ہوئی

    کی نہ ساقی سے برابر آنکھ شرماتا رہا

    مجھ سا ہو مضبوط دل تب مے کشی کا نام لے

    محتسب دیکھا کیا مجبور جھلاتا رہا

    کیا کروں اور کس طرح اس بے قراری کا علاج

    یار کے کوچے میں بھی تو دل کا بہلاتا رہا

    نوجواں قاتل کو اچھی دل لگی ہاتھ آ گئی

    جب تلک کچھ دم رہا بسمل کو ٹھکراتا رہا

    شادؔ وقت نزع تھا خاموش لیکن دیر تک

    نام رہ رہ کر کسی کا زیر لب آتا رہا

    مآخذ :
    • کتاب : Dewan-e-shad Azimabadi (Pg. 161)
    • Author : Shad Azimabadi
    • مطبع : Educational Publishing House (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY