لطف پہچان کا بھی تو لو اجنبی

محمد اسد اللہ

لطف پہچان کا بھی تو لو اجنبی

محمد اسد اللہ

MORE BYمحمد اسد اللہ

    لطف پہچان کا بھی تو لو اجنبی

    ہم سے مل مل کے یوں نہ بنو اجنبی

    اجنبی پن ہے شیوہ مرے شہر کا

    آئے ہو جو یہاں بن رہو اجنبی

    بھیڑ ہی سے مخاطب ہو تم دیر سے

    خود سے بھی تو کبھی کچھ کہو اجنبی

    سہہ نہ پاؤ گے مجلس کی تنہائیاں

    اس سے بہتر ہے تنہا رہو اجنبی

    ٹوٹنا ہی حبابوں کی تقدیر ہے

    ان مراسم کو اتنا نہ رو اجنبی

    ہم شناسائیوں کے بھرم میں جئے

    کھل نہ پایا کہ آخر ہیں دو اجنبی

    زندگی ہے کہ بستی کسی غیر کی

    تم شناسا سہی پھر بھی ہو اجنبی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY