مانوس ہو گئے ہیں اندھے پرانے گھر سے

عرش صدیقی

مانوس ہو گئے ہیں اندھے پرانے گھر سے

عرش صدیقی

MORE BY عرش صدیقی

    مانوس ہو گئے ہیں اندھے پرانے گھر سے

    باہر نہیں نکلتے ہم روشنی کے ڈر سے

    سائے کی آرزو میں لپٹے ہوئے ہیں ہم سب

    سنسان راستے میں آتش زدہ شجر سے

    ہم خاک ہو کے بھی ہر موج ہوا سے الجھے

    یعنی تری وفا کا سودا گیا نہ سر سے

    کیا کیا نہ گل کھلیں گے کیا کیا نہ جشن ہوں گے

    اس کشت آرزو میں بادل کبھی جو برسے

    تیرے حضور تھے ہم اپنی نظر سے اوجھل

    خود کو بھی آج دیکھا گر کر تری نظر سے

    اب تک ہمیں گماں ہے صحرا پہ گلستاں کا

    اک بار بے ارادہ گزرا تھا وہ ادھر سے

    کیوں مطمئن کھڑے ہو آسودگان ساحل

    دریا کا زور دیکھو گہرائی میں اتر کے

    دل کا سکوں لٹا تو سر کیوں رہا سلامت

    کیوں زندہ لوٹ آئے ہم عرشؔ اس کے در سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY