مانوس ہو گئے ہیں غم زندگی سے ہم

آسی رام نگری

مانوس ہو گئے ہیں غم زندگی سے ہم

آسی رام نگری

MORE BYآسی رام نگری

    مانوس ہو گئے ہیں غم زندگی سے ہم

    ہم کو خوشی ملے تو نہ لیں گے خوشی سے ہم

    پھولوں کی آرزو نہ کریں گے کسی سے ہم

    کانٹے سمیٹ لائے ہیں ان کی گلی سے ہم

    ہم شام غم کو صبح مسرت کا نام دیں

    سورج کریں طلوع نہ کیوں تیرگی سے ہم

    سچ کے لئے ہم آج کے سقراط بن گئے

    پیتے ہیں جام زہر کا اپنی خوشی سے ہم

    ہم مل کے خود سے خود کو بھی پہچانتے نہیں

    اپنے لیے بھی بن گئے ہیں اجنبی سے ہم

    غم کھاتے کھاتے ہو گیا مانوس غم مزاج

    ہو جاتے ہیں فسردہ و محور خوشی سے ہم

    ہم کو وطن میں اب کوئی پہچانتا نہیں

    اپنے وطن میں پھرتے ہیں اب اجنبی سے ہم

    بن جائیں کیوں نہ خود ہی نمود سحر کی ضو

    آسیؔ ضیا طلب نہ کریں تیرگی سے ہم

    مأخذ :
    • کتاب : Harf Harf Khowab (Pg. 53)
    • Author : asi ramnagari
    • مطبع : Nasim Pathara Po. Moghalsarai (Varansi) (1992)
    • اشاعت : 1992

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY