معشوقۂ گل نقاب میں ہے

مصحفی غلام ہمدانی

معشوقۂ گل نقاب میں ہے

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    معشوقۂ گل نقاب میں ہے

    محجوبہ ابھی حجاب میں ہے

    مہندی نہ لگا کہ جان میری

    ہاتھوں سے ترے عذاب میں ہے

    تو ہے وہ بلا کہ ماہ و خورشید

    زلفوں کی ترے رکاب میں ہے

    ہر اک تجھے آپ سا کہے ہے

    قضیہ مہ و آفتاب میں ہے

    اللہ رے ترے پسینے کی بو

    کب ایسی بھبھک گلاب میں ہے

    اس زلف کا اینٹھنا تو دیکھو

    بن چھیڑے ہی پیچ و تاب میں ہے

    قہاری کی شان جب سے تیری

    عالم کے اوپر عتاب میں ہے

    دل کوہ کا ہو گیا ہے پانی

    دریا سب اضطراب میں ہے

    اٹھ مصحفیؔ آفتاب نکلا

    اب تک تو دوانے خواب میں ہے

    مآخذ
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(awwal) (Pg. 414)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY