مداح ہوں میں دل سے محمد کی آل کا

آغا اکبرآبادی

مداح ہوں میں دل سے محمد کی آل کا

آغا اکبرآبادی

MORE BYآغا اکبرآبادی

    مداح ہوں میں دل سے محمد کی آل کا

    مشتاق ہوں وصیٔ نبی کے جمال کا

    خواہاں گہر کا ہوں نہ میں طالب ہوں لال کا

    مشتاق ہوں تمہارے دہن کے اگال کا

    دیکھو تو ایک جا پہ ٹھہرتی نہیں نظر

    لپکا پڑا ہے آنکھ کو کیا دیکھ بھال کا

    کیا ان سے فیض پہنچے جو خود تیرہ بخت ہیں

    کھلتے نہ دیکھا ہم نے کبھی پھول ڈھال کا

    ہم ہیں فقیر دولت دنیا سے کام کیا

    بہتر ہے جام جم سے پیالہ سفال کا

    دانہ دکھا کے دام میں عنقا کو لاؤں گا

    مضمون لکھ رہا ہوں ترے خط و خال کا

    سو جان سے فدا ہوں محمد کے نام پر

    جس نے بتایا فرق حرام و حلال کا

    وہ آنکھ بھی اٹھا کے ہمیں دیکھتے نہیں

    رتبہ پہنچ گیا ہے یہ رنج و ملال کا

    کس زندگی کے واسطے دولت کی آرزو

    دیکھو نتیجہ غور سے قاروں کے مال کا

    اقبال گر نہیں ہے تو انکار کیجئے

    کچھ دیجئے جواب ہمارے سوال کا

    مٹھی کو کھول کر ید بیضا دکھاتے ہیں

    ناخن پہ ان کے ہوتا ہے دھوکا ہلال کا

    شاعر غضب کے ہوتے ہیں ہرگز نہ چوکتے

    موقع نہیں دہن میں ترے قیل و قال کا

    اے رشک مہر وصل میں غصہ ہے کس لئے

    یہ وقت میری جان نہیں ہے جلال کا

    تاریکیٔ لحد سے کچھ آغاؔ نہ خوف کر

    دامن ہے تیرے ہاتھ میں زہرا کے لال کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے