محرم کے ستارے ٹوٹتے ہیں

امداد علی بحر

محرم کے ستارے ٹوٹتے ہیں

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    محرم کے ستارے ٹوٹتے ہیں

    پستان کے انار چھوٹتے ہیں

    دل پر ہے وہ صدمۂ جدائی

    گھڑیال بھی سینہ کوٹتے ہیں

    کوئی تو متاع دل کو پوچھے

    آباد رہیں جا لوٹتے ہیں

    آنکھوں کو بہائے گا یہ رونا

    دریا میں چراغ چھوٹتے ہیں

    طے کس سے ہو وادئ محبت

    چلتے ہوئے پاؤں ٹوٹتے ہیں

    کس کے گالوں سے ہمسری کیے

    سونے کے ورق کو کوٹتے ہیں

    یہ دل اسے مفت بھی ہے مہنگا

    ہم خوش ہیں کی سستے چھوٹتے ہیں

    رندوں نے دیا جو سانہ اپنا

    ساقی کی دکان لوٹتے ہیں

    کیا شکوہ سنگ کو دکان بحرؔ

    ہم پر تو پہاڑ ٹوٹتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY