محسوس ہو رہا ہے جو غم میری ذات کا

بدیع الزماں خاور

محسوس ہو رہا ہے جو غم میری ذات کا

بدیع الزماں خاور

MORE BYبدیع الزماں خاور

    محسوس ہو رہا ہے جو غم میری ذات کا

    سچ پوچھیے تو درد ہے وہ کائنات کا

    گھر کی گھٹن سے دور نکل جائے آدمی

    سڑکوں پہ خوف ہو نہ اگر حادثات کا

    اپنے بدن کو اور تھکاؤ نہ دوستو

    ڈھل جائے دن تو بوجھ اٹھانا ہے رات کا

    اک دوسرے کو زہر پلاتے ہیں لوگ اب

    باتوں میں شہد گھول کے قند و نبات کا

    ہر شخص تیرے شہر میں مجرم بنا ہوا

    پھرتا ہے ڈھونڈھتا ہوا رشتہ نجات کا

    اس میں کسی کا عکس نہ چہرہ دکھائی دے

    دھندلا گیا ہے آئنہ خاورؔ حیات کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY