محسوس کروگے تو گزر جاؤگے جاں سے

جاوید صبا

محسوس کروگے تو گزر جاؤگے جاں سے

جاوید صبا

MORE BYجاوید صبا

    محسوس کروگے تو گزر جاؤگے جاں سے

    وہ حال ہے اندر سے کہ باہر ہے بیاں سے

    وحشت کا یہ عالم کہ پس چاک گریباں

    رنجش ہے بہاروں سے الجھتے ہیں خزاں سے

    اک عمر ہوئی اس کے در و بام کو تکتے

    آواز کوئی آئی یہاں سے نہ وہاں سے

    اٹھتے ہیں تو دل بیٹھنے لگتا ہے سر بزم

    بیٹھے ہیں تو اب مر کے ہی اٹھیں گے یہاں سے

    ہر موڑ پہ وا ہیں مری آنکھوں کے دریچے

    اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ جاتا ہے کہاں سے

    کیا ناوک مژگاں سے رکھیں زخم کی امید

    چلتے ہیں یہاں تیر کسی اور کماں سے

    آنکھوں سے عیاں ہوتا ہے عالم مرے دل کا

    مطلب ہے اس عالم کو زباں سے نہ بیاں سے

    RECITATIONS

    جاوید صبا

    جاوید صبا

    جاوید صبا

    محسوس کروگے تو گزر جاؤگے جاں سے جاوید صبا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY