مہتاب نہیں نکلا ستارے نہیں نکلے

راجندر ناتھ رہبر

مہتاب نہیں نکلا ستارے نہیں نکلے

راجندر ناتھ رہبر

MORE BY راجندر ناتھ رہبر

    مہتاب نہیں نکلا ستارے نہیں نکلے

    دیتے جو شب غم میں سہارے نہیں نکلے

    کل رات نہتا کوئی دیتا تھا صدائیں

    ہم گھر سے مگر خوف کے مارے نہیں نکلے

    کیا چھوڑ کے بستی کو گیا تو کہ ترے بعد

    پھر گھر سے ترے ہجر کے مارے نہیں نکلے

    بیٹھے رہو کچھ دیر ابھی اور مقابل

    ارمان ابھی دل کے ہمارے نہیں نکلے

    نکلی تو ہیں سج دھج کے تری یاد کی پریاں

    خوابوں کے مگر راج دلارے نہیں نکلے

    کب اہل وفا جان کی بازی نہیں ہارے

    کب عشق میں جانوں کے خسارے نہیں نکلے

    انداز کوئی ڈوبنے کے سیکھے تو ہم سے

    ہم ڈوب کے دریا کے کنارے نہیں نکلے

    وہ لوگ کہ تھے جن پہ بھروسے ہمیں کیا کیا

    دیکھا تو وہی لوگ ہمارے نہیں نکلے

    اشعار میں دفتر ہے معانی کا بھی رہبرؔ

    ہم لفظوں ہی کے محض سہارے نہیں نکلے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY