میخانۂ حیات کا انجام دے گیا

حیات وارثی

میخانۂ حیات کا انجام دے گیا

حیات وارثی

MORE BYحیات وارثی

    میخانۂ حیات کا انجام دے گیا

    وہ مجھ کو ایک ٹوٹا ہوا جام دے گیا

    وہ فکر و فن کو جذبۂ بے نام دے گیا

    غزلوں کو میری پیکر ابہام دے گیا

    آیا تھا ساتھ لے کے وہ سوغات ہجر کی

    رخصت ہوا تو تحفۂ اوہام دے گیا

    ظاہر ہوئے نہ چہرے سے دل کے تأثرات

    خبروں پہ تبصرہ بھی بہت کام دے گیا

    صہبا شباب قوس و قزح روشنی گلاب

    ہر شخص تجھ کو ایک نیا نام دے گیا

    دنیا کی نفسیات سما میں نہ آ سکی

    ہر آدمی حیات کو الزام دے گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے