ہنس ہنس کے جام جام کو چھلکا کے پی گیا

عبد الحمید عدم

ہنس ہنس کے جام جام کو چھلکا کے پی گیا

عبد الحمید عدم

MORE BYعبد الحمید عدم

    ہنس ہنس کے جام جام کو چھلکا کے پی گیا

    وہ خود پلا رہے تھے میں لہرا کے پی گیا

    توبہ کے ٹوٹنے کا بھی کچھ کچھ ملال تھا

    تھم تھم کے سوچ سوچ کے شرما کے پی گیا

    ساغر بدست بیٹھی رہی میری آرزو

    ساقی شفق سے جام کو ٹکرا کے پی گیا

    وہ دشمنوں کے طنز کو ٹھکرا کے پی گئے

    میں دوستوں کے غیظ کو بھڑکا کے پی گیا

    صدہا مطالبات کے بعد ایک جام تلخ

    دنیائے جبر و صبر کو دھڑکا کے پی گیا

    سو بار لغزشوں کی قسم کھا کے چھوڑ دی

    سو بار چھوڑنے کی قسم کھا کے پی گیا

    پیتا کہاں تھا صبح ازل میں بھلا عدمؔ

    ساقی کے اعتبار پہ لہرا کے پی گیا

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Adm (Pg. 308)
    • Author : Khwaja Mohammad Zakariya
    • مطبع : Alhamd Publications, Lahore (2009)
    • اشاعت : 2009

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY