میں ابھی اک بوند ہوں پہلے کرو دریا مجھے

رفیق راز

میں ابھی اک بوند ہوں پہلے کرو دریا مجھے

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    میں ابھی اک بوند ہوں پہلے کرو دریا مجھے

    پھر اگر چاہو کرو وابستۂ صحرا مجھے

    پھیلتا ہی جا رہا تھا میں خموشی کی طرح

    قلزم آواز نے ہر سمت سے گھیرا مجھے

    میرے ہونے یا نہ ہونے سے اسے مطلب نہ تھا

    تیرے ہونے کا تماشا ہی لگی دنیا مجھے

    لوگ کہتے ہیں کسی منظر کا میں بھی رنگ تھا

    تو نے اے چشم فلک اڑتے ہوئے دیکھا مجھے

    آشنا اس پار کے منظر نہیں مجھ سے مگر

    جانتا ہے دھند کی دیوار کا سایا مجھے

    میں کہ سناٹوں کا مبہم استعارہ تھا کوئی

    داستاں ہوتا زمانا شوق سے سنتا مجھے

    شکر ہے میں اک صدا تھا طائر معنی نہ تھا

    ورنہ وہ تو زیر دام حرف ہی رکھتا مجھے

    میں ہی میں ہوں اور بدن کے غار میں کوئی نہیں

    کر دیا تنہا سگان دہر نے کتنا مجھے

    مأخذ :
    • کتاب : Nakhl-e-Aab (Pg. 230)
    • Author : Rafeeq Raaz
    • مطبع : Takbeer Publications, Srinagar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے