میں اپنے آپ سے اک کھیل کرنے والا ہوں

آزاد گلاٹی

میں اپنے آپ سے اک کھیل کرنے والا ہوں

آزاد گلاٹی

MORE BYآزاد گلاٹی

    میں اپنے آپ سے اک کھیل کرنے والا ہوں

    سبھی یہ سوچ رہے ہیں کہ مرنے والا ہوں

    کسی کی یاد کا مہتاب ڈوبنے کو ہے

    میں پھر سے شب کی تہوں میں اترنے والا ہوں

    سمیٹ لو مجھے اپنی صدا کے حلقوں میں

    میں خامشی کی ہوا سے بکھرنے والا ہوں

    مجھے ڈبونے کا منظر حسین تھا لیکن

    حسین تر ہے یہ منظر ابھرنے والا ہوں

    حیات فرض تھی یا قرض کٹنے والی ہے

    میں جسم و جاں کی حدوں سے گزرنے والا ہوں

    میں ساتھ لے کے چلوں گا تمہیں اے ہم سفرو

    میں تم سے آگے ہوں لیکن ٹھہرنے والا ہوں

    صدائے دشت سہی میری زندگی آزادؔ

    خلائے دشت کو اپنے سے بھرنے والا ہوں

    مأخذ :
    • کتاب : Aab-e-Sharab (Pg. 27)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY