میں اپنے جسم میں کچھ اس طرح سے بکھرا ہوں

عابد ادیب

میں اپنے جسم میں کچھ اس طرح سے بکھرا ہوں

عابد ادیب

MORE BYعابد ادیب

    میں اپنے جسم میں کچھ اس طرح سے بکھرا ہوں

    کہ یہ بھی کہہ نہیں سکتا میں کون ہوں کیا ہوں

    انہیں خوشی ہے اسی بات سے کہ زندہ ہوں

    میں ان کی دائیں ہتھیلی کی ایک ریکھا ہوں

    میں پی گیا ہوں کئی آنسوؤں کے سیل رواں

    میں اپنے دل کو سمندر بنائے بیٹھا ہوں

    وہ میرے دوست جو ایک ایک کرکے دور ہوئے

    میں ان کو آج بھی اپنے قریب پاتا ہوں

    محیط کرنے کی کوشش فضول ہے مجھ کو

    ندی کا چھور نہیں ہوں میں بہتا دریا ہوں

    مجھی پہ پھینکے ہے پتھر جو کوئی آتا ہے

    کہ جیسے میں تری کھڑکی کا کوئی شیشہ ہوں

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY